اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے صوبہ الجوف کے شہر الحزم کی مرکزی جیل پر 7 ستمبر کو ہونے والے سعودی فضائی حملے کی مزید تفصیلات بیان کی ہیں۔
یحییٰ سریع نے کہا کہ سعودی عرب کے ایف-15 ایس اے جنگی طیارے نے الحزم کی مرکزی جیل کو دو مرتبہ فضائی حملے کا نشانہ بنایا۔
یمنی ترجمان کے مطابق، حملہ آور طیارے نے خمیس مشیط کے علاقے میں واقع شاہ خالد فضائی اڈے سے مقامی وقت کے مطابق شام ساڑھے چار بجے پرواز کی اور جیل پر حملہ کرنے کے بعد تقریباً 15 منٹ بعد واپس اسی فضائی اڈے پر پہنچ گیا۔
انہوں نے بتایا کہ سعودی جنگی طیارے کی قسم، اس کے پرواز کے مقام اور کارروائی کے اوقات سے متعلق معلومات یمنی مسلح افواج کی جانب سے دستیاب تفصیلات کی بنیاد پر جاری کی گئی ہیں۔
یحییٰ سریع کے مطابق، سعودی فضائی حملے میں اب تک کم از کم 23 یمنی شہری شہید ہوچکے ہیں، جبکہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور مزید شہادتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی حملے میں صرف جیل میں قید افراد ہی متاثر نہیں ہوئے بلکہ اپنے عزیزوں سے ملاقات کے لیے جیل آنے والے شہری بھی نشانہ بنے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے سعودی عرب کی جانب سے حملے کی ذمہ داری سے انکار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی جرم یا جارحیت سے انکار کرنے سے اس کے ذمہ داروں کی ذمہ داری ختم نہیں ہوجاتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حملے کی حقیقت اور اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کو چھپانے کی کوشش سعودی عرب کو اس کارروائی کے نتائج سے بری نہیں کرسکتی۔
الحزم کی مرکزی جیل پر سعودی فضائی حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے خلاف سعودی کارروائیوں اور خطے میں جاری کشیدگی کے انسانی اثرات مسلسل سامنے آ رہے ہیں، جبکہ جیل میں قید افراد کے ساتھ خواتین اور بچوں کے بھی متاثر ہونے کی اطلاعات نے اس واقعے کی سنگینی مزید بڑھا دی ہے۔
آپ کا تبصرہ